طفیل احمد علیمی
بالآخر اقلیتی تعلیمی اداروں کے قومی کمیشن نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی تعلیمی ادارہ کی شکل میں 22 فروری 2011 کو منظوری دے دی۔اس معاملے پر سماعت کی شروعات 2006 میں ہوئی تھی۔ جسٹس ایم ایس اے صدیقی کی صدارت والی کمیشن کی سہ رکنی بنچ نے 18 سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ایم ایس اے صدیقی نے کہا:”کمیشن کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو آئین کی دفعہ 30 کے تحت اقلیتی ادارہ کا درجہ دیا گیا ہے۔“
اس سینٹرل یونیورسٹی کو مسلم اقلیتی ادارہ کا درجہ دئے جانے کا مطالبہ کئی تنظیموں کے ذریعہ طویل عرصہ سے کیا جارہا تھا۔ اس تاریخ ساز فیصلے کا جامعہ مائنارٹی اسٹیٹس کو آرڈی نیشن کمیٹی سمیت تمام ملی و سماجی تنظیموں نے خیر مقدم کیا۔
جامعہ مائنارٹی اسٹیٹس کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر الیاس ملک نے کمیشن کے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئےکہا:”یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ اس کے لیے ہم طویل عرصہ سے لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ نہ صرف جامعہ بلکہ پورے اقلیتی طبقہ کے لیے بھی خوشی کا دن ہے۔“
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر نجیب جنگ نے کہا کہ یونیورسٹی کو اقلیت کا درجہ ملنے سے اس کی سیکولر شناخت قائم رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ اقلیت کا درجہ ملنے سے جامعہ میں کوئی زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہونے والی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جامعہ میں پہلے سے ہی 50 فیصد مسلم طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی یہ پہلی سینٹرل یونیورسٹی ہوگی، جسے اقلیت کا درجہ حاصل ہے۔ اس فیصلے سے اب مسلم طلباءکے لیے 50 فیصد سیٹیں طے ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ کمیشن کے اس فیصلے سے جامعہ کو کافی راحت ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ کا قیام ہی مسلمانوں کو تعلیمی طور پر مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ خلافت اور عدم تعاون کی تحریک کے دوران 1920 میں علی گڑھ میں قائم ہوئی۔ اس کا قیام گاندھی جی کے اس پیغام کے تحت عمل میں آیا تھا، جس میں لوگوں کو حکومت کے تعاون سے چلنے والے تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی دعوت دی گئی تھی، جن حضرات نے گاندھی جی کی اس صدا پر پرجوش انداز میں لبیک کہا، ان میں مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ اور ڈاکٹر ذاکرحسین کی شخصیتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس طرح یہی ممتاز شخصیتیں اور ان کے رفقاءجامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی ہیں۔
جامعہ 1925 میں علی گڑھ سے دہلی منتقل کردی گئی۔1939میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے ایک سوسائٹی رجسٹرڈ کرائی گئی۔ علی گڑھ کے بعد اس ادارہ کودہلی کے قرول باغ لے آیاگیا اور پھر جامعہ نگر اس کا مستقل مسکن ہوگیا۔
1962 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ایکٹ کے سیکشن 2 کے تحت جامعہ ملیہ اسلامیہ کوDeemed University کا درجہ حاصل ہوا۔ دسمبر 1988 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ 1988 کو پارلیمنٹ کی منظوری ملنے کے بعد مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ اس وقت اس کے چانسلر خورشید عالم خان بنائے گئے تھے اور وائس چانسلر کی ذمہ داری علی اشرف کو سونپی گئی تھی۔
جامعہ کے بانیان اور اس کے تعمیر کرنے والے مسلمان تھے اور اس کا قیام انہوں نے مسلمانوں کے لئے ہی کیا تھا۔ لیکن جامعہ نے شروع سے ہی غیرمذہبی تعلیم کے تصور کو ملحوظ رکھا اور بلا تفریق مذہب و ملت طلبہ و کارکنان کے لیے جامعہ نے اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے وقت اس کے بانیوںنے جوخواب دیکھا تھا اسے بڑی حد تک عدالت کے اس فیصلہ نے شرمندہ ¿ تعبیر کردیا۔ اب اس یونیورسٹی میں 50 فیصد سیٹیں مسلم طلبہ و طالبات کے لیے ریزرو ہوںگی اور ایس سی و ایس ٹی طلباءکے لیے ریزرویشن باقی نہیں رہے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر نجیب جنگ کے مطابق ”یونیورسٹی میں اقلیتی درجہ کا نفاذ کرنے سے پہلے کئی قانونی تقاضے پورے کرنے ہوںگے، اس کے بعد ہی اسے نافذ کیا جاسکے گا۔ “ لہٰذا حکومت ہند کو عدالت کے اس فیصلہ کو کسی قانونی داو ¿ پیچ میں الجھائے بغیر قبول کرنا چاہیے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انتظامیہ کو جلد از جلد اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔
حکومت ہند نے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔ سچر کمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کی سماجی واقتصادی حالت کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں جو سفارشات پیش کی تھیں ان کو رو بہ عمل لانے پر غور کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ کمیٹی فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت محمدعلی اشرف فاطمی کی سربراہی میں 13ممبران پر مشتمل تھی۔فاطمی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی جیسے اداروں میں مسلمانوں کے لیے سیٹیں بڑھائی جائیں اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے وہاں مسلم طلباءکے لیے سرکاری اسکول کھولے جائیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے کروڑوں اقلیتوں کے مسائل کا حل صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار دئے جانے سے حل ہوجائے گا؟ کیا سچر کمیٹی کی سفارشات اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی ہی کافی ہے؟ حکومت ہند کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالات کو سدھارنے کے لیے جلد از جلد سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا چاہیے اور جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی درجہ دیا گیا ہے، اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بھی بحال کرنا چاہیے۔
اس سینٹرل یونیورسٹی کو مسلم اقلیتی ادارہ کا درجہ دئے جانے کا مطالبہ کئی تنظیموں کے ذریعہ طویل عرصہ سے کیا جارہا تھا۔ اس تاریخ ساز فیصلے کا جامعہ مائنارٹی اسٹیٹس کو آرڈی نیشن کمیٹی سمیت تمام ملی و سماجی تنظیموں نے خیر مقدم کیا۔
جامعہ مائنارٹی اسٹیٹس کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر الیاس ملک نے کمیشن کے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئےکہا:”یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ اس کے لیے ہم طویل عرصہ سے لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ نہ صرف جامعہ بلکہ پورے اقلیتی طبقہ کے لیے بھی خوشی کا دن ہے۔“
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر نجیب جنگ نے کہا کہ یونیورسٹی کو اقلیت کا درجہ ملنے سے اس کی سیکولر شناخت قائم رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ اقلیت کا درجہ ملنے سے جامعہ میں کوئی زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہونے والی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جامعہ میں پہلے سے ہی 50 فیصد مسلم طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی یہ پہلی سینٹرل یونیورسٹی ہوگی، جسے اقلیت کا درجہ حاصل ہے۔ اس فیصلے سے اب مسلم طلباءکے لیے 50 فیصد سیٹیں طے ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ کمیشن کے اس فیصلے سے جامعہ کو کافی راحت ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ کا قیام ہی مسلمانوں کو تعلیمی طور پر مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ خلافت اور عدم تعاون کی تحریک کے دوران 1920 میں علی گڑھ میں قائم ہوئی۔ اس کا قیام گاندھی جی کے اس پیغام کے تحت عمل میں آیا تھا، جس میں لوگوں کو حکومت کے تعاون سے چلنے والے تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی دعوت دی گئی تھی، جن حضرات نے گاندھی جی کی اس صدا پر پرجوش انداز میں لبیک کہا، ان میں مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ اور ڈاکٹر ذاکرحسین کی شخصیتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس طرح یہی ممتاز شخصیتیں اور ان کے رفقاءجامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی ہیں۔
جامعہ 1925 میں علی گڑھ سے دہلی منتقل کردی گئی۔1939میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے ایک سوسائٹی رجسٹرڈ کرائی گئی۔ علی گڑھ کے بعد اس ادارہ کودہلی کے قرول باغ لے آیاگیا اور پھر جامعہ نگر اس کا مستقل مسکن ہوگیا۔
1962 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ایکٹ کے سیکشن 2 کے تحت جامعہ ملیہ اسلامیہ کوDeemed University کا درجہ حاصل ہوا۔ دسمبر 1988 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ 1988 کو پارلیمنٹ کی منظوری ملنے کے بعد مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ اس وقت اس کے چانسلر خورشید عالم خان بنائے گئے تھے اور وائس چانسلر کی ذمہ داری علی اشرف کو سونپی گئی تھی۔
جامعہ کے بانیان اور اس کے تعمیر کرنے والے مسلمان تھے اور اس کا قیام انہوں نے مسلمانوں کے لئے ہی کیا تھا۔ لیکن جامعہ نے شروع سے ہی غیرمذہبی تعلیم کے تصور کو ملحوظ رکھا اور بلا تفریق مذہب و ملت طلبہ و کارکنان کے لیے جامعہ نے اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے وقت اس کے بانیوںنے جوخواب دیکھا تھا اسے بڑی حد تک عدالت کے اس فیصلہ نے شرمندہ ¿ تعبیر کردیا۔ اب اس یونیورسٹی میں 50 فیصد سیٹیں مسلم طلبہ و طالبات کے لیے ریزرو ہوںگی اور ایس سی و ایس ٹی طلباءکے لیے ریزرویشن باقی نہیں رہے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر نجیب جنگ کے مطابق ”یونیورسٹی میں اقلیتی درجہ کا نفاذ کرنے سے پہلے کئی قانونی تقاضے پورے کرنے ہوںگے، اس کے بعد ہی اسے نافذ کیا جاسکے گا۔ “ لہٰذا حکومت ہند کو عدالت کے اس فیصلہ کو کسی قانونی داو ¿ پیچ میں الجھائے بغیر قبول کرنا چاہیے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انتظامیہ کو جلد از جلد اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔
حکومت ہند نے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔ سچر کمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کی سماجی واقتصادی حالت کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں جو سفارشات پیش کی تھیں ان کو رو بہ عمل لانے پر غور کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ کمیٹی فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت محمدعلی اشرف فاطمی کی سربراہی میں 13ممبران پر مشتمل تھی۔فاطمی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی جیسے اداروں میں مسلمانوں کے لیے سیٹیں بڑھائی جائیں اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے وہاں مسلم طلباءکے لیے سرکاری اسکول کھولے جائیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے کروڑوں اقلیتوں کے مسائل کا حل صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار دئے جانے سے حل ہوجائے گا؟ کیا سچر کمیٹی کی سفارشات اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی ہی کافی ہے؟ حکومت ہند کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالات کو سدھارنے کے لیے جلد از جلد سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا چاہیے اور جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی درجہ دیا گیا ہے، اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بھی بحال کرنا چاہیے۔
No comments:
Post a Comment